دماغ کی جانچ کے لیے انتہائی چھوٹا، جدید اورازخود گھلنے والا سینسرتیار

عثمان علی قریشی 21 / 01 / 2016

اکثر کسی حادثے یا چوٹ لگنے کی صورت میں دماغ کے اندر نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے طویل اور  پیچیدہ اسکین اور ٹیسٹ سے گزرنا پرتا ہے لیکن اب چاول کے ایک دانے جیسا سینسر بنالیا گیا ہے جو دماغ کے دباؤ اور درجہ حرارت کو نوٹ کرکے اپنا کام مکمل کرکے ازخود گھل کر ختم ہوجائے گا۔

امریکی یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے اس جدید سینسر کو تیار کیا گیا ہے جو دماغ کی چوٹ کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کرتا ہے جو اندرونی درجہ حرارت اور دباؤ کی صورت میں ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق دماغی صحت کو جاننے کے لیے یہ دونوں چیزیں بہت اہم ہیں کیونکہ چوٹ کی صورت میں دماغ میں یہی دو اہم تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق فی الحال ان دونوں اشیا کو ناپنے کے لیے کھوپڑی کاٹ کر اندر سینسر لگانے پڑتے ہیں جو باہر ایک بڑے مانیٹر سے جڑے ہوتے ہیں، اس سے مریض کی تکلیف بڑھ جاتی ہے اور انفیکشن کا خطرہ بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سلیکان اور پولیمر سے بنا یہ سینسر دماغ میں جاکر کسی شے کو نقصان پہنچائے بغیر خودبخود ختم ہوجاتا ہے لیکن اسے پہلے ساری معلومات کو وائرلیس کے ذریعے باہر موجود ریسیور تک بھیج دیتا ہے، یہ چھوٹا سینسر آج کے مہنگے ترین سینسر کی طرح ہی درست معلومات دیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق سینسر کا ایک نمونہ بنالیا گیا ہے لیکن سینسر پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے جس سے اگلے 5 سے 10 سال کے دوران یہ سینسر عام دستیاب ہوسکے گا۔ ماہرین نے اس سینسر کو چوہوں کے دماغ  پر استعمال کیا اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں کو جانچا۔